Archive for the ‘Urdu Font Kahaniya’ Category

sali ka pyar

Thursday, October 7th, 2010

میرا نام راج ہے ، لغت کے تمام ارکان کو میرا پرنام.

میری عمر 28 سال ہے اور میں روز جم جاتا ہوں اس لیے میں کافی فٹ رہتا ہوں. میں جب ممبئی میں نیا آیا تھا. مجھے پہلے کافی دقت ہوئی پر ابھی مجھے یہاں اچھا لگتا ہے. میں ممبئی کے دادر علاقے میں رہتا ہوں. مجھے شہوت انگیز عورتیں اچھی لگتی ہیں.

میری زندگی کی سب سے اچھی کہانی سننا چاہتا ہوں جسے میں آج بھی بہت یاد کرتا ہوں.

میں ایک بار ناگپور سے ممبئی آ رہا تھا ، ایسی 2 ٹائر میں بیٹھا تھا ، میرے سامنے ایک جوڑے بیٹھا تھا. ہم لوگوں کا ایک دوسرے سے تعارف ہوا اور ہم لوگ کافی گھلمل گئے. وہ بفدا ، اس کا نام تھا دریویش ، سافٹ ویئر انجنیئر تھا ، ممبئی میں ہی جاب کرتا تھا. کافی ساری باتیں کی اور رات کو سو گئے.

اگلے دن صبح جب میں اور وہ بھی اٹھ گئے تو اسے یاد آیا کہ اس نے میرا سیل نمبر نہیں لیا ہے ، مجھ سے سیل نمبر مانگنے لگا. اس یاد آیا کہ اس کا سیل تو بیگ میں ہے تو اس نے اپنی بیوی کو کہا کہ اپنے سیل میں سٹور کرکے بعد میں اسے دے دے.

میں نے اسے اپنا نمبر دے دیا. تھوڑی دیر میں ٹرین ممبئی اسٹیشن پر آ گئی اور ہم لوگ اپنے اپنے گھر چلے گئے.

گھر پہنچتے ہی مجھے ایک پیغام آیا جس میں دوستی کرنے کے لئے لکھا تھا. مجھے ایسے بہت میسیپ آتے رہتے ہیں تو میں ان پر توجہ نہیں دیتا. پھر تھوڑی دیر میں اور ایک میسیپ آیا ، لکھا تھا کہ اگر دوستی نہیں کرنی ہے تو صاف صاف بتا دو! تمہاری ٹرین کی دوست! اس بار نام لکھا تھا اور اس کا نام تھا شالکنی.

میں سوچ میں پڑ گیا کہ کون ہے یہ لڑکی؟ مجھے تو کچھ یاد نہیں آ رہا تھا کہ میں کسی شالکنی سے ملا ہوں.

پھر بھی میں نے کوئی جواب نہیں دیا ، مجھے آفس جانے کی جلدی تھی تو میں نے سوچا کہ شام کو بات کروں گا.

شام کو پھر میں نے فون کیا ، سامنے سے آواز آئی ، “میں آپ کے فون کا کب سے انتظار کر رہی ہوں.”

یہ سن کر مجھے عجیب لگا ، پھر میں نے پوچھا “کیا ہم کبھی ملے ہیں؟”

اس نے کہا ، “اتنے جلدی بھول گئے؟ میں دیکھنے میں اتنی بری بھی نہیں ہوں. ”

میں : مجھے یاد نہیں آ رہا ہے آپ فضل کرکے اپنا نام بتائیے!

اس نے کہا کہ اس کا نام شالکنی ہے اور ہم کل ہی ٹرین میں ملے تھے اور اس نے یاد دلایا کہ وہ سامنے والی سیٹ پر بیٹھی تھی. پھر مجھے یاد آیا کہ یہ دریویش کی بیوی ہے اور دریویش نے میرا نمبر اسے سٹور کرنے کے لیے کہا تھا.

میں : ساری شالکنی جی! میں نے آپ کا نام نہیں پوچھا تھا اس لیے مجھے یاد نہیں تھا! اور دریویش کیسا ہے؟

شالکنی : وہ آفس چلے گئے ہیں ، رات کو لیٹ آئیں گے. ”

میں : چلو چھوڑو ، آپ مجھ سے دوستی کیوں کرنا چاہتی ہیں؟

شالکنی : آپ میں مجھے اپنا بووفرینڈ نظر آتا ہے جو اس دنیا میں اب نہیں ہے.

میں : آمدنی ایم ساری!

شالکنی : کوئی بات نہیں! میں اپنے بووفرینڈ کی بات کا برا نہیں مانتی. تمہیں پتہ نہیں کس طرح نیند آ رہی تھی ، میں رات بھر سو نہیں پائی.

میں : کیوں؟

شالکنی : تمہیں ہی نہار رہی تھی ، ایسا لگ رہا تھا کہ میں تمہارے پاس آ جاؤں!

میں نے مستی میں کہا : تو آ جانا تھا!

شالکنی : کیسے آتی؟ دریویش ساتھ میں تھا.

میں : آپ کی شادی کو کتنے سال ہوئے ہیں؟

شالکنی : دو سال ہوئے ہیں.

پھر ہم نے ملنے کا منصوبہ بنایا. اس نے کہا کہ وہ گورےگازی میں رہتی ہے ، دو دن بعد اس کے شوہر جلدی ہی آفس جانے والے ہیں صبح ساڑھے پانچ!

شالکنی کا قد ساڑھے پانچ فٹ ہے ، گوری ، فیٹر 35-27-36 ، بہت دلکش! کوئی بھی اسے دیکھے گا تو اس کا لنڈ وہیں کھڑا ہو جائے گا. بلا کی خوبصورت تھی وہ!

میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ میرے بارے میں کیسے سوچنے لگی کیونکہ وہ اتنی خوبصورت تھی کہ میں سوچ ہی نہیں سکا کہ وہ مجھ سے متاثر ہوگی.

دو دن بعد اس کا فون آیا صبح 5 بجے ، اس نے مجھے یاد دلایا کہ ابھی آدھے گھنٹے میں اس کا شوہر آفس جانے والا ہے. میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی. میں اٹھا اور تیار ہوکر موٹرسائکل لے کر نکل گیا. میں اس کے گھر کے پاس اس کے فون کا انتظار کرنے لگا.

اس کا فون آیا — ابھی آ سکتے ہو!

میں : گڈ وارننگ ڈئر!

شالکنی : گڈ مورنںگ ایسے نہیں کرتے!

پھر اس نے مجھے گال پر کس کیا اور گلے سے لگایا. جیسے ہی اس نے گلے سے لگایا میرا لنڈ کھڑا ہو گیا. میں نے بھی اسے کس کرنا شروع کر دیا. سب سے پہلے پیشانی پر ، آنکھوں پر ، گال پر اور اب اس کے ہونٹوں کی باری تھی. جیسے ہی میں نے ہونٹ چومنے چالو کئے ، اس نے مجھے دھکا دیا اور بولی — اتنی بھی کیا جلدی ہے؟ تھوڑا صبر کرو!

شالکنی : ابھی تو آئے ہو! جلد بازی کیوں؟

میں : آگ لگا کر بولتی ہو کہ پلفباجی کیوں؟

شالکنی : آج کا دن ہمیں بہت مستی کرنا ہے! کیوں نا دھیرے دھیرے مزا لیں!

میں : ٹھیک ہے! کہاں سے شروع کرنا ہے؟

شالکنی : نہا کر آئے ہو؟

میں : پاگل ہو گئی ہو کیا؟ اتنے سویرے نہا کر کون آئے گا؟

شالکنی : میں بھی نہیں نہائ! چلو پھر ساتھ میں شاور لیتے ہیں!

میں بہت خوش ہو گیا. زندگی میں پہلی بار کسی کے ساتھ شاور لینے کا موقع ملا ہے ، یہ سن کر ہی میرے دل میں بہت سے خیال آنے لگے اور پھر ہم شاور لینے چلے گئے.

جیسے ہی میں باتھروم میں گیا تو دیکھا کہ باتھ روم بہت بڑا تھا ، باتھنب بھی تھا. پھر میں نے اس کے گلابی پھول کی پنکھڈوں جیسے ہونٹوں کو عومنہ شروع کیا. اس بار وہ بھی میرا ساتھ دینے لگی. کبھی میں اوپر کا ہونٹ چوستا تو کبھی نیچے کا! پوری زبان اس کے منہ میں ڈال دی. وہ بھی کسی تجربہ کار کی طرح مکمل ساتھ دے رہی تھی. دھیرے دھیرے میرے ہاتھ اس کے چھاتی تک گئے. اوپر سے ہی میں سہلا رہا تھا اسے بہت مجا آ رہا تھا. وہ بھی میرا لںڈ پینٹ کے اوپر سے سہلا رہی تھی. لںڈ تو میرا پہلے سے کھڑا ہو گیا تھا.

میں اس کی گردن پر کس کرتے کرتے کان کے پیچھے پہنچا ہی تھا کہ وہ بولی — کپڑے تن پر بوجھ ہیں انہیں اتار فینکنہ چاہئے.

میں نے اس کی نہئے اتار پھینکی. اب وہ میرے سامنے برا اور پینٹی میں تھی. میں برا کے اوپر سے ہی اس کے چھاتی پر کس کر رہا تھا. اس نے کہا — اب اور مت اتڑات! برا کھول دو اور چوس لو میری چوچیوں کو!

میں نے فوری طور پر برا کھول دی اور چوسنے لگا. اس کا ہاتھ میرے لںڈ کو سہلا رہا تھا. میں نے دونوں چھاتی اچھی طرح سے چوس چوس کر اور دبا دبا کر لال کر دیے. دھیرے دھیرے میں اس کی نہمي کو چاٹنے لگا. فر میں نے اس کی پینٹی اتار دی.

واہ! کیا چوت تھی! پوری طرح غیو کی ہوئی تھی ، بہت ہی منمہک خوشبو آ رہی تھی. مجھ سے رہا نہیں گیا ، میں نے اپنی زبان وہاں لگا دی.

جیسے ہی میں نے زبان لگائی اس نے میرا سر اندر ھکیلی اور کراہنے لگی ، کہا — راج چاٹو اسے! مجھے بہت مزا آ رہا ہے!

دس منٹ چاٹنے کے باد وو جھڑ گئی. پھر اس نے مجھے عومنہ چالو کیا. پہلے مجھے ہونٹوں پر چوما ، گردن سے ہوتی ہوئی نپل پر آ گئی. بعد میں دھیرے دھیرے نیچے جانے لگی. اس وقت مجھے اتنا مزا آ رہا تھا کہ میں بتا نہیں سکتا.

مجھے لگا کہ وہ میرا لںڈ چوسنے والی ہے. اس نے میری نہمي کو بھی چہٹا اور وہ گھڑی آ گئی جس کا مجھے انتظار تھا. میرا لںڈ اس نے پہلے اپنی زبان سے پوری طرح چاٹ لیا ، پھر اسے منہ میں لیا اور اندر — باہر کرکے چوسنے لگی. مجھے بہت مزا آ رہا تھا گویا کہ میں زفت میں ہوں. 10-12 منٹ بعد مکمل ویرے اس کے منہ میں چھوڑ دیا جو اس نے بڑے پیار سے چاٹ لیا. پھر ہم لوگ باتھرب میں بیٹھ کر ایک دوجے کو نہلانے لگے.

ہم دونوں عریاں ہی پورے گھر میں گھوم رہے تھے. بعد میں ہم نے ناشتہ کیا.

شالکنی نے کہا — ابھی تو پہلا حصہ ہوا ہے! ابھی دوسرا چالو کرتے ہیں!

پھر اس نے مجھے عومنہ چالو کیا. اس بار اس نے براہ راست لںڈ منہ میں لے لیا اور چوسنے لگی. دو منٹ چوسنے کے بعد میرا لںڈ کھڑا ہو گیا. میں نے اسے گرم کرنے کے لئے اس کے چھاتی عوسنہ شروع کیا. تھوڑی دیر میں وہ گرم ہو گئی. پھر میں نے اس کی چوت عاٹنی چالو کر دی. میری پخبان پوری اندر تک گھومنے کرکے آ رہی تھی.

شالکنی بولی — اب مزید مت اتڑات! چود ڈالو! اور انتظار نہیں ہوتا!

میں نے لنڈ دھیرے سے اندر ڈال دیا اور زور سے دھکے مارنے لگا.

اس کی آواز نکل رہی تھی — آ… ںيہ… میرے راجا آئی لو یو! اسی طرح چودتے رہو! بہت مزا آ رہا ہے!

15 منٹ بعد مجھے ایسا لگا کہ میرا گرنے والا ہے. میں نے باہر نکال دیا اور کنٹرول کرنے لگا. میں نے اسے عومنہ شروع کر دیا پھر دو منٹ بعد چوت میں ڈال دیا. وہ بہت خوش ہو گئی کہ میں کنٹرول کر سکتا ہوں.

اس نے کہا کہ اس کا شوہر کنٹرول نہیں کر پاتا اور جلد ہی گر جاتا ہے. اس لیے وہ ادھوری ہے.

ایسا میں نے دو بار اور کیا. میں کل کرتا ہوں تو مجھے پتہ ہے کہ اپنی اندروں کو کیسے وش میں کرنا ہے.

پھر میں نے اسے پوچھا — شالکنی! تب تم اتشاا ہو جاؤ تو مجھے بتا دینا ، میں باہر گرا دوں گا.

اس نے کہا — اندر ہی گرانی! گرم گرم منی جب چوت میں پڑتا ہے تو اس کا مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے.

میں نے کہا — بچہ ہو گیا تو؟

اس نے کہا — تمہارا پیار سمجھ کر اپنے سینے سے لگا کر رکھیوزی.

میں نے پھر اندر ہی گرا دیا. ہم دونوں نڈھال ہو کر پڑے رہے.

اس کے بعد اس نے مجھے پیار سے چوما.

Asma ki Daz Daz

Monday, June 28th, 2010

Student ko chuda

Wednesday, March 10th, 2010

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ٹیوشن پڑھایا کرتا تھا۔میں ٹیوشن اپنے گھر پر ہی پڑھایا کرتا تھا میری اس وقت تک شادی ہوچکی تھی۔ مگر شام میں مجھے گھر کے خرچے پورے کرنے کے لیے ٹیوشن پڑھانا پڑتی تھیں۔ سو میرے شاگردوں میں کافی لڑکے اور لڑکیاں تھیں۔ ان میں ہی ایک لڑکی تھی جسکا نام سونیا تھا اسکی عمر تقریباً بائیس سال تھی اور وہ گریجویشن کی اسٹوڈنٹ تھی کافی ڈل اسٹوڈنٹ تھی مجھے اس پر کافی محنت کرنا پڑتی تھی۔ وہ میری بیوی سے کافی فری تھی۔ مگر اسکی حرکتیں مجھے کچھ مشکوک لگتی تھیں۔ وہ تھی بھی بڑی خوبصورت بڑا دل کرتا تھا اسکے ساتھ سیکس کرنے کا اور ایسے ویسے نہیں جانوروں کی طرح جنگلی جانوروں کی طرح ۔ خیر ایسا ہوا کہ میرے سالے کی شادی ہو رہی تھی میری بیوی نے مجھے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ پورے ایک ہفتہ کے لیے اپنے میکے جائے گی۔ تو میں نے حامی بھر لی تھی مگر میں نہیں جاسکتا تھا کیونکہ اسٹوڈنٹس کے پیپرز کا وقت قریب تھا اور سونیا کی فکر زیادہ تھی مجھے۔ اس لیے میں ان لوگوں کو چھٹیاں نہیں دےسکتا تھا۔ سونیا کا گھر ہمارے گھر سے زیادہ دور نہیں تھا، اور وہ آجکل کافی دیر دیر تک میرے پاس رہ کر اپنے پیپرز کی تیاری کر رہی تھی۔ میری بیوی اب میکے جاچکی تھی۔ گھر پر میں اکیلا تھا۔ یا پھر آفس سے واپس آنے کے بعد میرے اسٹوڈنٹس۔ جو کہ رات کو دیر تک میرے ساتھ ہوتے تھے۔ ایکدن میں نے سونیا سے کہا تم بہت آہستہ چل رہی ہو پیپرز بہت نزدیک ہیں تم کو زیادہ وقت دینا ہوگا۔ اس نے کہا میں کیا کروں میں نے کہا رات کو مزید دیر تک رکو۔ اس نے حامی بھرلی۔ پھر اسی دن میں نے اپنے اسٹوڈنٹس کو کہا کہ آپ لوگ اب جلدی چلے جایا کریں کیونکہ میری نیند پوری نہیں ہورہی ہے۔ اور آپ لوگوں کی تیاری تو تقریباً ہو ہی چکی ہے اس لیے اب زیادہ دیر تک اگر پڑھنا ہے تو اپنے گھروں پر پڑھیں۔ سب اس بات کے لیے تیار ہوگئے میرا اصل مقصد سونیا کے ساتھ وقت گذارنا تھا۔ میں دل میں ٹھان چکا تھا کہ اسی دوران جب تک میری بیوی اپنے میکے ہے اسکو چود ڈالوں پھر پتہ نہیں ایسا موقع ملے کہ نہیں۔
خیر اگلے دن سے میرے اسٹوڈنٹس جلدی جانے لگے اور مجھے کافی وقت سونیا کے ساتھ ملنے لگا۔ اگلے دن سونیا نے کہا آج وہ رات کو دیر تک میرے پاس رکے گی اور پڑھے گی کیونکہ سارے گھر والے ایک شادی میں جارہے ہیں اور رات کو بہت دیر میں واپسی ہوگی۔ جب میرے بھیا آئیں گے مجھے لینے تو میں جاؤں گی۔ چونکہ میری بیوی سے سونیا کی کافی دوستی تھی لہذا اسکے گھر والے سونیا کو میرے پاس چھوڑنے پر فکرمند نہیں تھے اور ویسےبھی انکے علم میں نہیں تھا کہ میری بیوی آجکل اپنے میکے میں ہے۔خیر میں نے سوچا آج ہی موقع ہے سونیا کو دل بھر کے چود لوں پتہ نہیں دوبارہ یہ موقع ملتا ہے کہ نہیں۔ خیر میں آفس سے واپس آیا تو سونیا ذرا دیر بعد ہی آگئی اور میری باقی اسٹوڈنٹس بھی۔ آج سونیا نے ایکدم ٹائٹ شلوار قمیض پہنا ہوا تھا جس میں وہ کسی سیکس بم سے زیادہ نہیں لگ رہی تھی۔ سارے اسٹوڈنٹس سمجتھے تھے کہ سونیا میری رشتہ دار ہے اور اس بے فکری سے میرے گھر میں گھومتی تھی جسکی کی اجازت کسی اور اسٹوڈنٹس کونہیں تھی۔ خیر میں سونیا کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرایا تو اس بھی جواب میں مسکراہٹ پیش کی ۔ اور یہ بڑی معنی خیز مسکراہٹ تھی۔ جو کہ میں اسوقت سمجھ نہ سکا۔ خیر دو گھنٹے بعد میرے اسٹوڈنٹس چلے گئے پھر میں نے سونیا سے کہا چلو کھانا کھا لیتے ہیں پہلے پھر پڑھیں گے ۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا اور میرے ساتھ کچن میں آکر کھانا گرم کرنے میں میری مدد کرنے لگی۔ اس دوران کچن میں مختلف چیزیں اٹھانے کے چکر میں گھومتے چلتے پھرتے میں دو تین بار سونیا سے ٹکرایا ایک بار اسکی گانڈ سے ٹکرایا مگر وہ کچھ نہ بولی۔ بلکہ مسکرا کر چپ رہی۔ خیر پھر ہم دونوں ٹیبل پر پہنچے کھانا لے کر اور ساتھ ہی کھانے لگے ۔ کھانے سے فارغ ہوکر میں تو باتھ روم چلا گیا اور باتھ لے کر نکلا مگر سونیا برتن وغیرہ سمیٹ کر دھو کر فارغ ہو کر اسٹڈی روم میں تھی اور کتابیں کھولے پڑھ رہی تھی میں اپنے نائٹ ڈریس میں تھا کیونکہ سونیا کے جانے کے بعد مجھے سونا ہی تھا۔ سونیا نے مجھے دیکھا نہیں دیکھا تھا میں نے اس سے پوچھا کیا پڑھ رہی ہو تو وہ ایکدم چونک کر مجھے دیکھنے لگی اورپھر خود کو سنبھالتے ہوئے کہنے لگی کچھ نہیں بس یونہی میں نے کہا چلو اب پڑھائی شروع کرتے ہیں۔ اس نے کتاب بند کر کے ایک طرف مجھ سے دور رکھ دی اور اپنی دوسری ایک کتاب اٹھا کر وہ کھول لی میں نے اس سے کہا سونیا وہ کتاب دینا جو تم پڑھ رہی تھی ابھی۔ وہ یہ سنتے ہی ایکدم گھبرا گئی اور کہا سر وہ کورس میں شامل نہیں ہے غلطی سے میں ساتھ کے آئی تھی۔ میں نے کہا ہے تو کتاب ہی نا مجھے دو تو سہی پھر اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی کتاب میرے ہاتھ میں دے دی کتاب کا کوئی ٹائٹل نہیں تھا میں نے کتاب کھولی تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ ایک سیکسی کہانیوں کی کتاب تھی جس میں تصویریں بھی تھیں۔ میں نے سونیا کی جانب دیکھا تو وہ نظریں نیچے کیئے ہوئے تھی اور اسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا اسکے نزدیک پہنچا تو مجھے پتہ چلا اسکی سانس بھی کافی تیز چل رہی تھی۔ میں نے اسے کچھ نہیں کہا بلکہ اسکے برابر بیٹھ کر اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور فوراً ہی اسکو اپنے لنڈ پر رکھ دیا وہ جیسے ہوش میں آگئی۔ ایکدم ہڑبڑا کر مجھے دیکھنے لگی۔ میں نے مسکراتے ہوئے اسکی آنکھوں میں دیکھا اور کہا آج تم شام سے کافی بدلی بدلی اور اپنی اپنی سی لگ رہی تھی اب سمجھ آیا کہ وجہ کیا تھی۔ وہ کچھ نہیں بولی اور نظریں نیچے کر لیں ۔ میں نے ہمت کر کے اسکے چہرے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اسکے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی کس کی اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ پھر میں نے اسکے ممے پر ہاتھ رکھ دیا وہ ایکدم کسمسا اٹھی۔ اب مجھ سے برادشت نہ ہوا اور میں نے اسکو دونوں ہاتھوں سے جکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ میں حیران رہ گیا جب میں نے محسوس کیا کہ سونیا نے بھی مجھے اپنے دونوں ہاتھوں سے جکڑ لیا ہے اور مجھے اپنے سینے میں بھینچ رہی ہے۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی کیونکہ میرا آدھے سے زیادہ کام تو ہوچکا تھا۔ میں نے مزید وقت ضائع کیئے بغیر اسکی قمیض میں ہاتھ ڈالا اور اسکے ممے کو پکڑ لیا اور دبانے لگا اسکی سانسیں تیز ہونے لگی تھیں۔ اور اسکے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔ وہ میری جانب دیکھ رہی تھی اسکی آنکھوں کے ڈورے سرخ ہونے لگے تھی اور آنکھیں آدھی کھلی اور آدھی بند تھیں۔ میں نے ایک بار پھر اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے مگر اس بار میں نے ایک لمبی کس کی اور اسکے ساتھ ساتھ اسکے دونوں مموں کو دباتا رہا جس سے وہ کافی گرم ہو گئی تھی تقریباً چدنے کے لیے تیار۔ اب میں نے مزید آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور اسے کہا چلو میرے ساتھ وہ چپ چاپ میرے ساتھ کھڑی ہوئی میں نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسکو لے کر اپنے بیڈ روم میں آگیا ۔ بیڈ کے پاس پہنچ کر میں نے اسکو کھڑا کیا اور اسکو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور اسکی کمر پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے اسکے کولہوں تک لے گیا اور انکا مساج کرنے لگا اس نے اپنے کولہے سکیڑ کر سخت کر لیے۔ پھر میں نے اسکے گالوں پر کسنگ کی اس نے جو قمیض پہنی تھی اسکی زپ پیچھے کی طرف تھی میں نے واپس کمر تک ہاتھ لے جاکر اسکی زپ کھولی اور اسکی قمیض کو ڈھیلا کردیا۔ اسکی قمیض اسکے شانوں سے ڈھلک کر نیچے آگئی تھی۔ اور اسکا بریزر صاف نظر آرہا تھا جس میں سے اسکے بڑے بڑے دودھیا رنگ کے ممے اپنی بہار دکھا رہے تھے۔ میں نے اسکی قمیض کو اسی پوزیشن میں چھوڑ کر اسکی شلوار پر حملہ کیا اور میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب دیکھا کہ وہ شلوار میں الاسٹک استعمال کرتی ہے۔ میرے لیے تو اور آسانی ہوگئی تھی۔ میں نے ایک ہی جھٹکے سے اسکی پوری شلوار زمین پر گرا دی وہ خاموش کھڑی صرف تیز تیز سانسیں لے رہی تھی مگر کچھ نہ کہہ رہی تھی اور نہ ہی مجھے روک رہی تھی۔ اب میں نے اسکی قمیض کو بھی اسکے بدن سے الگ کیا وہ صرف برا میں رہ گئی تو اسکو اس تکلف سے بھی آزاد کردیا اب وہ پوری ننگی میرے سامنے ایک دعوت بنی کھڑی تھی میں نے اسکے پورے بدن پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔اسکا بدن ایکدم چکنا اور بھرا بھرا تھا اسکا جسم کافی گرم ہو چکا تھا۔ میں نے آہستہ آہستہ ہاتھ اسکی چوت کی جانب بڑھایا اور اپنی انگلی جیسے ہی اسکی چوت میں ڈالی وہ گیلی ہوگئی اسکا مطلب وہ کافی آگے جاچکی تھی اب مجھے اپنا کام کرنا تھا میں نے اسکو بیڈ پر چلنے کو کہا۔وہ خاموشی سے بیڈ پر لیٹ گئی اور مجھے دیکھنے لگی ۔ میں نے انتظار نہیں کیا اور میں بھی بیڈ پر چڑھ گیا اور اسکے اوپر لیٹ کر اپنا لنڈ اسکی ٹانگوں کے بیچ اسکی چوت کے منہ پر پھنسا دیا۔ اور اسکو چوت پر رگڑنے لگا۔ وہ بے حال ہو رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ پہلے کبھی اس نے سیکس کیا ہے اس نے کہا ہاں ایک بار میں خوش ہوگیا کیونکہ اب زیادہ پریشانی نہیں تھی۔ میں نے بیٹھ کر اسکی ٹانگیں کھولیں اور اسکی چوت کے منہ پر لنڈ کو سیٹ کیا میرا لنڈ اسکی چوت کے پانی سے گیلا ہو کر چکنا ہوچکا تھا اور اندر جانے کو بے تاب تھا۔ میں نے تنے ہوئے لنڈ کو ایک زور دار جھٹکا لگایا اور میرا لنڈ اسکی چوت میں داخل ہوگیا اور اسی لمحے سونیا کا سانس ایک لمحے کو رکا پھر تیز تیز چلنا شروع ہوگیا۔ میں نے تھوڑا سا لنڈ باہر نکالا کیونکہ پورااندر جانے کے لیے اسے تھوڑا سا پیچھے ہٹنا ضروری تھا۔ بس میں نے تھوڑا سا پیچھے کیا لنڈ کو اور ایک زور دار جھٹکا مارا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا پورا لنڈ اسکی چوت کے اندر داخل ہوگیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب اسکے منہ سے آہیں نکل رہی تھیں۔ اسکو اپنے جسم میں میرا سخت تنا ہوا لنڈ محسوس ہوا تو وہ نشے میں بے حال ہونے لگی اور بے تحاشہ مجھے چومنے لگی اور آہستہ سے میرے کان میں کہا مجھے چودو جلدی۔۔۔۔۔۔۔۔ بس یہ سننا تھا میری اندر بجلی دوڑ گئی اور میں نے لنڈ کو اندر باہر کرنا شروع کردیا۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ میری رفتار میں اضافہ ہوتا رہا وہ جلدی جلدی چھوٹ رہی تھی۔ میں نے اس سے کہا رکو میں ابھی آیا اس نے کہا کہاں جا رہے ہیں میں نے کہا کہیں نہیں ابھی آتاہوں میں کچن میں گیا اور وہاں ایک ٹیبلیٹ اسی وقت کے لیے رکھی تھی وہ میں نے نگلی جلدی سے اور واپس آیا اور پھر سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ داخل کیا اسکو نہیں معلوم تھا اب اسکے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ اب میں نے آہستہ آہستہ سے چودنا شروع کیا۔ مگر وہ چاہتی تھی کہ میں اپنی رفتار تیز کروں مگر میں انتظار میں تھا کہ ٹیبلیٹ کا اثر شروع ہو جائے وہ بہت تیز اثر کرنے والی ٹیبلیٹ تھی جو میں اکثر اپنی بیوی پر بھی استعمال کرتا تھا۔ تقریباً پانچ منٹ اسی طرح گذرے اور وہ تڑپتی رہی کہ میں اسکو پہلے والی رفتار سے چودوں ۔ اب میں نے محسوس کیا کہ ٹیبلیٹ اثر کر رہی ہے اور میرا لنڈ مکمل سخت ہے اور لاوا اگلنے کے موڈ میں نہیں ہے میں نے اپنی رفتار بڑھا دی اور بے تحاشہ جھٹکوں سے اسے چودنے لگا۔ وہ بے حال ہو رہی تھی اسکی آہوں سے زیادہ چیخیں نکل رہی تھیں اور وہ مجھے روکنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ مگر میں اب رکنے والا تھا بھی نہیں۔بہرحال وہ اس دوران تین بار فارغ ہوئی اس کی ہمت جواب دے رہی تھی میں نے اپنا لنڈ باہر نکالا اور کہا ابھی میں فارغ نہیں ہوا ہوں تم گھوڑی بنو اسکو اسکا تجربہ نہیں تھا اس نے میری جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا تو میں نے اسے بتایا کیسے گھوڑا بننا ہے وہ سمجھی تھی میں شاید پیچھے کی طرف سے اسکی چوت میں لنڈ داخل کرونگا جیسے ہی وہ گھوڑی بنی میں نے اپنا لنڈ اسکی گانڈ پر رکھا اور پوری طاقت سے اسکو اندر داخل کردیا میرا لنڈ کسی پسٹن کی طرح چکنا اور گیلا تھا اور اسکی گانڈ بھی اسکی چوت سے بہہ کر آنے والے پانی سے گیلی تھی میراپورا لوڑا اسکی گانڈ میں ایک ہی بار میں گھس گیا اور وہ درد سے بلبلا اٹھی مگر میں باز آنے والا کب تھا۔ میں نے اسکو جکڑ لیا اور وہ کوشش کرتی رہی میری گرفت سے نکلنے کی مگر میں نے اسکو نہیں چھوڑا ذرا دیر بعد میں نے اس سے پوچھا کہ تکلیف کم ہوئی اس نے کہا ہاں مگر آپ اس کو نکال کر وہیں ڈالیں جہاں پہلے تھا۔ مگر میں نے انکار کردیا اور کہا ابھی نہیں تھوڑی دیر میں وہ خاموش ہوگئی اس نے خود کو پورا میرے حوالے کیا ہوا تھا۔ بس میں نے اسکی رضامندی دیکھ کر اپنا کام شروع کردیا اور جھٹکے دینا شروع کیے اور پھر پوری رفتار میں ایکبار پھر سے اآگیا اسکے ممے بری طرح سے ہل ہل کر اسکے چہرے سے ٹکرا رہے تھےاور وہ بھی پوری ہل رہی تھی اس نے کہا ایسے مزہ نہیں آرہا ہے بہت ہل رہی ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا چلو نیچے زمین پر اسکو زمین پر لاکر میں نے پیٹ کے بل اسکو بیڈ پر اسطرح لٹایا کہ اسکے گھٹنے زمین پر تھے اب میں بھی اسی پوزیشن میں آگیا اور پھر سے لنڈ اسکی گانڈ میں داخل کیا اب میں نے پورا لنڈ اندر ڈال کر مزید اسکی گانڈ کو گہرا کرنے کی کوشش کی اور اندر لنڈ کو رکھ کر ہی دباؤ ڈالا ۔ جس سے ایک بار پھر اسکی چیخیں نکلنا شروع ہوگئی تھیں۔ بالاخر میرا وقت پورا ہونے لگامیں نے اس سے کہا میں تمہاری گانڈ میں ہی منی نکال رہا ہوں نہیں تو تم ماں بن سکتی ہو۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا میں نے جیسے ہی وقت آیا پورا لنڈ اسکی گانڈ میں گھسیڑا اور میرے لنڈ نے منی اگلنا شروع کردی۔ وہ شاید دو تین بار کی منی تھی جو ایک ہی دفعہ میں نکل رہی تھی کیونکہ ٹیبلیٹ سے میں نے اسے روکا ہوا تھا۔ وہ میری منی کے ہر ہر شاٹ پر کپکپا رہی تھی۔ اور اس نے کہا یہ تو بہت گرم ہے مجھے بخار لگ رہا ہے۔ میں نے کہا ایسا نہیں ہے یہ گرمی ہے اسکو انجوائے کرو۔ یہ گرمی پیدا بھی تو تم نے ہی کی تھی۔ پھر آخر میں نے لنڈ باہر نکالا اور وہ سیدھی ہو کر مجھے حیرت سے دیکھنے لگی ۔ اس نے کہا آپ انسان تو نہیں لگتے پہلے جب میں نے سیکس کیا تھا تو اتنا وقت تو نہیں لگا تھا جتنا آپ نے لگایا ہے یہ کہہ کر وہ اٹھی اور مجھ سے لپٹ کر مجھے چومنے لگی ۔ اسکے بعد وہ میرے لنڈ کی دیوانی ہوگئی مگر اسکو کیا پتہ تھا کہ میں نے کیا کیا ہے اسکے ساتھ ۔ بعد میں بھی کئی بار اسکو چودا۔ اور وہ ہمیشہ خوش رہی کہ سکو اتنا موٹا اور اتنا زیادہ مزے دینے والا لنڈ ملا ہے۔

Faiza aur us ke mamoo ki kahani

Monday, March 8th, 2010